ہم بھکاری وہ کریم ان کا خدا ان سے فزوں
اور نہ کہنا نہیں عادت رسول اللّٰہ کی
یہ خوبصورت شعر دراصل اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ کا ہے اور اس میں انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی عطا اور حضور نبی کریم ﷺ کی سخاوت و شانِ کریمی کو بڑے دلنشین انداز میں بیان کیا ہے اس میں اعلیٰ حضرت اپنی اور تمام امت کی عاجزی کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ہم درِ رسول ﷺ کے منگتے اور سوالی ہیں اور حضور ﷺ کی صفتِ "کریمی" کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ بے حساب عطا فرمانے والے ہیں اور اُن کا خدا اُن سے فزوں: یہ ایک بہت گہرا نکتہ ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ جب رسول اللّٰہ ﷺ کے جود و سخا کا یہ عالم ہے کہ کوئی ان کے در سے خالی نہیں جاتا، تو ذرا سوچئے کہ جس خدا نے آپ ﷺ کو یہ تمام اختیارات دئے ، وہ کتنا بڑا کریم ہے "فزوں" سے مراد یہ ہے کہ اللّٰہ کی عطا اور اس کی شان اپنے محبوب ﷺ سے بھی کہیں بڑھ کر (لامحدود) ہے
اور نا کہنا نہیں عادت رسول اللّٰہ کی
اس مصرع میں نبی کریم ﷺ کے خلقِ عظیم اور آپ ﷺ کی سخاوت کی انتہا بیان کی گئی ہے۔
تاریخ اور احادیث گواہ ہیں کہ حضور ﷺ کے در پر آنے والے کسی بھی سائل کو کبھی "نا" (نہیں) سننے کو نہیں ملی۔ اگر پاس کچھ ہوتا تو عطا فرما دیتے، اور اگر کچھ نہ ہوتا تو نرمی سے وعدہ فرما لیتے یا دعا دیتے، لیکن کبھی کسی کو جھڑکا نہیں یا انکار نہیں فرمایا۔
مجموعی طور پر اس شعر کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ہم گناہ گار اور حاجت مند لوگ ہیں، جبکہ سامنے ایسی ہستی ہے جو سراپا کرم ہے اور جن کے دربار میں "انکار" کا لفظ ہی موجود نہیں۔ اور اس کریمی کا اصل منبع اللّٰہ تعالیٰ کی ذات ہے جو اپنے محبوب ﷺ کے صدقے ہمیں نوازتی ہے۔
اس لئے جب کبھی کچھ مانگنا ہو سرکار دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مانگو
وہ ضرور عطا فرماتے ہیں
یہی قرآن پاک کی آیت وَ اَمّا السّائِلَ فَلَا تَنْہَرْ سے بھی مستفاد ہے
پیش کش
سراج العاملین پیر طریقت مولانا محمود الحسن قادری چشتی اشرفی نقشبندی سہروردی مالیگاؤں